Friday, November 2, 2018

مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے کا والد کا پوسٹمارٹم نہ کروانے کا اعلان۔۔ حکومت سے اہم مطالبہ کر دیا

مولانا سمیع الحق کا پوسٹمارٹم نہیں کروائیں گے، بیٹا حامد الحق

حکومت سے غیرجانبدرانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں، والد کے سینے اور منہ پر چاقوؤں سے وار کیے گئے ۔ بیٹے مولانا حامد الحق کی نجی ٹی وی سے گفتگو.....


لاہور جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ شہیدمولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق کا کہنا ہے کہ سمیع الحق کا پوسٹمارٹم نہیں کروائیں گے،والدکے سینے اور منہ پر چاقوؤں سے وار کیے گئے ،حکومت سے غیرجانبدرانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں ۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد مولانا سمیع الحق نماز عصر کے بعد گھر میں آرام کررہے تھے ۔
جبکہ گن مین اور ڈرائیور باہر گئے ہوئے تھے۔ جب ملازم گھر آئے تو مولانا سمیع الحق اپنے بستر پر خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ والد کےقتل کی غیرجانبدرانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ مولاناسمیع الحق کا پوسٹمارٹم نہیں کروائیں گے۔
دوسری جانب ملک بھر کی مذہبی سیاسی ، شخصیات اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نوازشریف ، شہبازشریف، آصف زرداری ، عمران خان ، بلاول بھٹو ، مولانافضل الرحمن ، سراج الحق سمیت دیگر نے مولانا سمیع الحق کے قتل پر اظہار افسوس کیا اور حملے کی مذمت کی ہے۔
مزید برآں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سربراہ جمعیت علماء اسلام (س)مولانا سمیع الحق کی قاتلانہ حملے میں شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے آئی جی پولیس کوحکم دیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان جلد گرفت میں ہوں گے۔ واضح رہے معروف عالم دین، مذہبی اسکالر اور جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق پرراولپنڈی میں قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مولانا سمیع الحق پر فائرنگ سے نہیں چاقوؤں سے حملہ کیا گیا ، ملازم کی جانب سے پولیس کوحملے کی اطلاع دی گئی۔ گھر میں کوئی موجود نہیں تھا ،بلکہ مولانا سمیع الحق اکیلے ہی گھر میں موجود تھے۔ ملازم کا کہنا ہے کہ میں باہر گیا تھا، جونہی میں گھر واپس آیا تو مولانا سمیع الحق خون میں لت پت تھے۔
ان کو اسپتال لے جایا گیا تووہ شہید ہوگئے۔ بتایا گیا ہے سمیع الحق پر تھانہ ایئرپورٹ راولپنڈی کے علاقے میں ان میں واقعہ پاؤسنگ سوسائٹی میں حملہ کیا گیا۔ مولانا سمیع الحق نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں مقیم تھے۔ گھر میں کوئی موجود نہیں تھا ،بلکہ مولانا سمیع الحق اکیلے ہی گھر میں موجود تھے۔ گھر کے ملازم کا کہنا ہے کہ میں باہر گیا تھا، جونہی میں گھر واپس آیا تو مولانا سمیع الحق خون میں لت پت تھے۔ ان کے سینے پر چاقوؤں سے وار کیے گئے تھے۔ ان کو اسپتال لے جایا گیا تووہشہید ہوگئے۔ پولیس جائے وقوعہ پرپہنچ گئی ہے،پولیس ملازمین کوحراست میں لے لیا ہے۔اور تمام ملازمین سے بیانات قلمبند کرنا شروع کردیے ہیں۔

Labels:

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home