Saturday, November 3, 2018

آسیہ بی بی کے وکیل نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا! نظرثانی اپیل میں آسیہ بی بی کی نمائندگی کیلئے پاکستان آؤں گا یا نہیں؟

آسیہ بی بی کے وکیل نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

اگر آرمی مجھے سیکورٹی فراہم کرے تو آسیہ بی بی کیس کے خلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی اپیل میں آسیہ بی بی کی نمائندگی کے لیے پاکستان واپس آؤں گا...




لاہو آسیہ بی بی کے وکیل نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کا کہنا ہے کہ میری زندگی کو خطرہ ہے اس لیے میں نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔سیف الملوک کا کہنا ہے کہ اگر آرمی انہیں سیکورٹی فراہم کرے تو وہ آسیہ بی بی کیس کے خلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی اپیل میں پاکستان واپس آئیں گے اور آسیہ بی بی کی نمائندگی کریں گے۔

آسیہ بی بی کے وکیل کا مزید کہنا ہے کہ میرے اہل خانہ کی جان کو بھی شدید خطرات ہیں اس لیے وفاقی حکومت انہیں سیکورٹی فراہم کرے۔جب کہ آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اپیل دائرکر دی گئی ہے۔ اپیل قاری سلام نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق اور غلام مصطفی چوہدری کی وساطت سے دائر کی ۔

اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آسیہ بی بی نے تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف کیا ۔
ایف آئی آر تاخیر سے درج کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم بے گناہ ہے۔ اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ آسیہ بی بی سے متعلق بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔آسیہ بی بی کا نام نظر ثانی اپیل کے فیصلے تک ای سی ایل میں ڈالا جائے۔خیال رہے گذشتہ روز حکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے پر تحریک لبیک پاکستا ن نے تین روز سے جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا تاہم دوسرے دھڑے تحریک لبیک یارسول اللہ نے معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

، حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان معاہدے میں پانچ نکات کو تحریر کر کے دستخط کئے گئے تھے۔ طے پانے والے پانچ نکاتی تحریری معاہدے کے مطابق آسیہ مسیح کے مقدمے میں نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی گئی ہے جو کہ مدعا علیہان کا قانونی حق و اختیار ہے جس پر حکومت معترض نہ ہو گی ۔ آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کے لئے قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تحریک میں اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں تو ان کے بارے میں فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ۔ آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تیس اکتوبر اور اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ہیں ان افراد کو فوری رہا کیا جائے گا۔ اس واقعہ کے دوران جس کسی کی بلا جواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے ۔

Labels: ,

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home